حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اسلام کے دوسرے خلیفہ اور عظیم المرتبت صحابی ہیں۔ آپؓ کو "فاروق" اس لیے کہا جاتا ہے کہ آپ حق اور باطل میں فرق کرنے والے تھے۔
آپؓ ابتدا میں اسلام کے سخت مخالف تھے، لیکن اللہ تعالیٰ نے آپؓ کے دل کو ہدایت دی اور آپؓ اسلام قبول کر کے مسلمانوں کے لیے طاقت کا سبب بن گئے۔
حضرت عمرؓ کے دور میں اسلامی سلطنت نے بے مثال ترقی کی۔ ایران، شام اور مصر فتح ہوئے۔ آپؓ نے عدل و انصاف کا ایسا نظام قائم کیا جس کی مثال تاریخ میں کم ملتی ہے۔
آپؓ راتوں کو گشت کرتے اور عوام کے حالات کا خود جائزہ لیتے تھے۔ ایک مشہور قول ہے: اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر جائے تو عمر سے اس کا حساب لیا جائے گا۔
1. خلافت کی مشروعیت: حضرت ابوبکرؓ نے خود آپؓ کو خلیفہ مقرر کیا۔
2. فضیلت: نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔
3. اہل بیت سے تعلق: حضرت علیؓ کے ساتھ بہترین تعلقات تھے اور مشاورت جاری رہتی تھی۔
حضرت عمرؓ کی زندگی عدل، تقویٰ اور قیادت کا بہترین نمونہ ہے۔ ان کی سیرت آج بھی حکمرانوں کے لیے مشعل راہ ہے۔